Press Release

ایف پی سی سی آئی نے انجینئر نگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے بند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

کرا چی ( 19-07-2017) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے صدر زبیر طفیل نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے بند ہونے پر اسٹیک ہولڈرز سے میٹنگ کی۔میٹنگ میں صدر ایف پی سی سی آئی کے علاوہ سندھ ریجن کے تمام نائب صدور اورآٹو موبائل ،آٹو مویٹو اورآٹو اسپےئر پارٹس سے متعلقہ ایسوسی ایشنز کے نما ئندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں اسٹیک ہولڈرزنے انجینئر نگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے بند کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسے حکومت کا غیر سنجید ہ اور غیر قانونی عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز اور ایف پی سی سی آئی سے مشورے کے بغیریک طرفہ طور پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئر نگ ڈویلپمنٹ بورڈ انجینئر نگ سیکٹر کو فروغ دینے ،ڈومسیٹک انڈسٹری کو Protectionدینے اورمضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔اسٹیک ہولڈرز نے مزید بتایا کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ 1995میں قائم کیاگیا تھا اور یہ منسٹری آف انڈسٹری اینڈ پروڈکشن سے منسلک تھا جسکا مقصد انجینئرنگ سیکٹر کو بڑھانا،برآمدات کو فروغ دینا اور تکینکی تر بیت میں اضا فہ اور متبادل درآمدات کو مستحکم کرنا تھا۔ اس وقت تک انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ آٹو سیکٹر سے متعلق دو پالیسیاں پیش کر چکا ہے جس کے نتیجے میں آٹو اسمبلر کی تعداد 2007سے لیکر اب تک 3سے55تک پہنچ چکی ہے ۔آٹو پالیسی پر مکمل طریقے سے عمل درآمد کرنے کے نہ صرفCompetitionبڑھے گا بلکہ پاکستان میں ٹیکنالوجی بھی منتقل ہو گئی۔انہوں نے مزید کہاکہ2010سے اب تک حکومت انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو اہمیت دینے میں ناکام ہو گئی ہے اور یہ بورڈ2012سے2015تک اور اب مارچ 2017سے اب تک بغیر سی ای او کے خدمات انجام دیتا رہا ہے۔اسٹیک ہولڈرز نے انجینئر نگ دویلپمنٹ بورڈ کی شفا فیت ،بہتر کار کر د گی ،مہارت اور میرٹ پر زور دیا تھا تاکہ انجینئر نگ سیکٹرپاکستان کی اقتصادی تر قی میں اہم کردار ادا کر ے اور اس سیکٹر کو عالمی مارکیٹ کے ساتھ متحرک کرے۔اس کے ساتھ ساتھ ملک میں انجینئرنگ کو فروغ دے کیونکہ پاکستان کا مستقبل صنعتکاری پر منحصر ہے خاص طو رپر انجینئرنگ ،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کیمیکل کی صنعت پر اور ان صنعتوں میں روز گار پیداکرنے کی بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو بند کرنا اور اس کی ذمہ داریاں دوسرے اداروں کو منتقل کرنے سے بڑے پیمانے کی صنعتیں بُری طرح متا ثر ہو گئی اور نئی سرمایہ کا ری کی راہ میں رکا وٹیں پیدا کرے گی خاص طو رپر Vendingسیکٹر میں۔ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر طفیل نے اسٹیک ہولڈرز کو اپنی مکمل حمایت اور مدد کی یقین دہانی کروائی اور کہاکہ ایف پی سی سی آئی حکومت کو مکمل طو رپر قا ئل کرنے کی کو شش کرے گی کہ وہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کو ململ طو رپر Restructureکرے اور اس میں پرائیویٹ سیکٹر،بورڈ آف انو سمنٹ اور پاکستان انجینئرنگ کو نسل کے نما ئندوں کو بھی شامل کرے۔اجلاس میں مزید فیصلہ کیاگیا کہ اس معاملے کو ایف پی سی سی آئی آئندہ ہفتے میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے ساتھ بھیDiscussکرے گی۔

اقبا ل تھیم
قا ئم مقام سیکر یٹری جنرل ایف پی سی سی آئی